نئی دہلی،5 ؍مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کو لے کر تمام طرح کے قیاس چل رہے ہیں۔ادھر الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کا اعلان مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہو سکتا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ انتخابات 6 سے 7 مراحل میں ہو سکتے ہیں۔
ادھر پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر انتخابات کی فرضی تاریخوں کی پوسٹ بھی وائرل ہو رہی ہے، اسے نوٹس میں لیتے ہوئے دہلی کے چیف الیکشن افسر نے آئی پی سی کی مختلف دفعات میں مقدمہ درج کرایا تھا۔چیف الیکشن افسر کے دفتر نے فیس بک اور ٹویٹر کے لیے متعلقہ مواد کے لئے بھی کہا تھا۔سوشل میڈیا پر صرف انتخابات کی تاریخ ہی نہیں بلکہ پارٹیوں کے امیدواروں کی فرضی فہرست بھی وائرل ہونے کا معاملہ سامنے آ چکا ہے۔
یوپی میں سماجوادی پارٹی۔بی ایس پی اتحاد ہونے پر بی ایس پی امیدواروں کی فرضی فہرست بھی وائرل ہوئی تھی،جس پر بہوجن سماج (بی ایس پی) کیس بھی درج کرا چکی ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی موجودہ حالت کے پیش نظر لگائی جا رہی قیاس آرائی کے درمیان چیف الیکشن کمشنر سنیل ارورہ نے کہا کہ لوک سبھا کے آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ارورہ سے سوال کیا گیا تھا کہ پاکستان میں فضائیہ کے حملے کے بعد پیدا صورتحال میں کافی سیکورٹی فورسز کی دستیابی نہیں ہونے کا خدشہ کی وجہ سے کیا لوک سبھا انتخابات وقت سے کرانا ممکن ہوگا؟۔ چیف الیکشن کمشنر نے آئندہ لوک سبھا انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور صاف طریقے سے کرانے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور ہر شکایت پر کارروائی کی جائے گی۔
لوک سبھا انتخابات کے دوران پورے ملک میں’سی وجل‘ موبائل ایپلی کیشنز جاری کیا جائے گا۔اس ایپ پر کوئی بھی شہری انتخابات سے متعلق شکایت درج کرا سکتا ہے،شکایت کنندہ کا نام خفیہ رکھنے کا اختیار بھی ہوگا۔الیکشن کمیشن ان شکایات پر ہوئی کارروائی کو اپنے خرچ پر اخبارات میں چھپوائے گا۔سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کے لیے کمیشن کی کمیٹیوں میں ایک ایک سوشل میڈیا کے ماہر کی تعیناتی ہوگی۔
مرکزی الیکشن کمیشن نے 7 اپریل سے 12 مئی، 2014 کے درمیان 9 مراحل میں 2014 کا لوک سبھا انتخابات کرایا تھا۔پہلے مرحلے میں دو ریاستیں، دوسرے مرحلے میں پانچ ریاستیں، تیسرے مرحلے میں 14، چوتھے میں تین، پانچویں مرحلے میں 13 ریاستوں کا انتخاب ہوا تھا، وہیں چھٹے میں 12، ساتویں میں نو، آٹھویں میں سات، نویں میں تین ریاستوں میں انتخابات ہوئے تھے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں این آرآئی ووٹروں کو اپنا ووٹ لائن دینے کا حق نہیں دیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہاکہ ایسا کرنے کے لئے عوامی نمائندگی قانون میں ترمیم کی ضرورت ہو گی،اس طرح کی ترمیم نہیں ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ کی تشخیص کے مطابق قریب 3.10 کروڑ این آر آئی دنیا کے مختلف ممالک میں رہ رہے ہیں۔الیکشن کمیشن نے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ووٹروں کو ووٹر شناختی کارڈ سمیت انتخابات سے متعلق دیگر معلومات اور سہولیات کے لئے ’ووٹر شناخت اور معلومات پروگرام (وی وی آئی پی) ملک گیر سطح پر شروع کیا ہے۔اس کے تحت ہیلپ اور دیگر خدمات کے ذریعے ووٹر اپنے شناختی خط میں ترمیم کرنے، نیا رجسٹریشن کرانے اور حقائق کی تصدیق کی جا سکے گی۔
الیکشن کمیشن اس سال لوک سبھا انتخابات کے دوران ووٹروں کو بریل ووٹر سلپ فراہم کرے گا۔بریل ایک سلپ ہوتی ہے، جس میں ڈاٹ ڈاٹ ابھرے ہوتے ہیں۔نابینا انگلیوں کی مدد سے ان ڈاٹ کو پڑھتا ہے۔قابل رسائی انتخابات کے لئے اپنی حکمت عملی کے حصے کے طور پر کمیشن نے تمام چیف الیکشن حکام کو نابینا ووٹروں کو بریل کے ساتھ قابل رسائی تصویر ووٹر سلپ جاری کرنے کے لئے کہا ہے۔بریل والی پرچیوں کا استعمال حال میں ختم ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھی کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں تمام الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) کے ساتھ ووٹر ویرفائبل کاغذ آڈٹ ٹریل (وی وی پی ای ٹی) مشینیں استعمال کی جائیں گی۔کمیشن کے وکیل نرنجن راج گوپال نے جسٹس ایس منی کمار اور جسٹس سبرامنیم پرساد کی بنچ کو یہ بات اس مفاد عامہ کی عرضی کے جواب میں بتائی، جس الیکشن کمیشن کو عام انتخابات میں ہر پارلیمانی حلقہ میں ويوي پی ای ٹی مشینوں کے استعمال کی ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے جب اس بات کو یقینی بنایا کہ ويوي پی ای ٹی مشینیں 100 فیصد استعمال کی جائیں گی تو بنچ نے درخواست مسترد کر دی۔